(2)کائینات کی وسعت اور معجزہ قرانی

 ہر کہکشاں میں ایک سو ارب ستارے ہیں

ہماری کہکشاں سے قریب ترین کہکشاں 20 لاکھ نوری سال کی مسافت پر واقع ہے یہ تمام کہکشائیں بڑی دوربین سے نظر آتی ہیں ہم اپنی آنکھ سے صرف چار کہکشائیں دیکھ سکتے ہیں
ہماری کہکشاں انیس دیگر کہکشاوں کے ساتھ مل کر ایک گروپ بناتی ہے اس گروپ کا قطر پچاس لاکھ نوری سال ہے

یہ تم کہکشائیں ہم سے نیز ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں اور آسمانوں میں زبردست توسیع ہو رہی ہے فلک شناسوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ تمام کہکشائیں ہم سے نیز ایک دوسرے سے دور بھاگ رہی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ کائینات پھیل رہی ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعید ترین کہکشاں 4400 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے جب کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہٹ جاتی ہیں تو خالی جگہ میں نئ کہکشائیں بن جاتی ہیں کتنی حیرت انگیز، ہے یہ حقیقت کہ آج سے چودہ سو سال پہلے جب عربوں کے پاس فلک بینی کا کوئ آلہ موجود نہ تھا قرآن نے ایک ایسی بات کہہ دی جس کا انکشاف 1948 کے کوہ پیلو مر کی دوربین نے کیا یعنی یہ کائینات پھیل رہی ہے
ہم نے آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا اور ہم اس میں وسعت دے رہے ہیں (الزاریات 47)
قران کے وحی ہونے پر اس سے بڑی شہادت اور کیا ہو سکتی ہے

Comments

Popular posts from this blog

ایک چور اور بادشاہ کی بیٹی پارٹ2

جس دن بیٹی پیدا ہوتی ہے نا🌸

ﻣﺠﻬﮯ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻬﺎ