حضرت آدم ؑ کا نشان

 حضرت آدم ؑ اور اُس کی بیوی حضرت حواؑ منفرد(ان دونوں کی مانند کوئی نہ تھا) تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنے ہاتھوں سے خود بنایا تھا اور وہ باغ جنت میں رہتے تھے۔ اصل عبرانی زبان میں آدم کا مطلب ہے ”مٹی“اس کا مظہر یا اظہار ہے کہ وہ زمین یا مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ باقی تمام تر انسانیت حضرت آدم ؑ اور حواؑ سے ہے۔ وہ انسانی نسل کے ’سر یا جدااِمجد‘ ہیں اور ہمارے لیے ایک اہم نشان ہیں۔ میں نے حضر ت آدم ؑ کے بارے میں دو متوازی حوالہ جات پر غور کیاقرشریف میں سے ہیں اور ایک پیدائش کی کتاب میں سے جو حضرت موسیٰ کی کتاب تورات شریف کی پہلی کتاب ہ(یہاں 

جب میں نے اِن حوالہ جات کا مطالعہ کیا۔ جو پہلا مشاہدہ میں نے کیا وہ یہ تھا کہ اِ ن حوالہ جات میں مماثلت پائی جاتی تھی۔ اِن دونوں حوالہ جات میں کردار یکساں تھے ( اللہ تعالیٰ ، حضرت آدم ؑ، حواؑ اور شیطان) دونوں حوالہ جات میں (جنت کا باغ) کی جگہ بھی ایک ہی تھی۔ دونوں حوالہ جات میں شیطان نے حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ سے جھوٹ بولا اور اُنہیں دھوکا دیا۔ اِن دونوں حوالہ جات میں آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ نے اپنی برہنگی کو چھُپانے کے لیے زیتون کے پتوں سے ڈھانکا۔ اِن دونوں حوالہ جات میں اللہ تعالیٰ نے اِن سے بات کی اور اُن کی عدالت کر کے فیصلہ سُنایا ۔ اِن دونوں حوالہ جات میں اللہ تعالیٰ حضرت آدم ؑ اور حواؑ پر کرم کی نظر کرتا ہے اور اُن کو کپڑے فراہم کرتا ہے۔ تاکہ وہ اپنی برہنگی چھوپا لیں ۔

قرآن شریف ہمیں حضرت آدم ؑ کی اولاد ( جسکا مطلب ہے ہم) کہہ کر متعارف کرواتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ صرف ماضی کے مقدس واقعات کی تاریخ کا سبق نہیں ۔ بلکہ ہمیں غور کرنا چاہیے ۔ کیونکہ یہ حوالہ واضع طور پر بتاتا ہے کہ یہ ہمارے لیے ہے اور ہمیں پوچھنا اور دریافت کرنا چاہے کہ یہ ہمارے لیے کس طرح نشانی ہے۔ 

(حضرت آدم ؑ ہمیں انتباہ کرتے ہیں)

ہمیں واقعی اس بات کو بڑی سنجیدگی سے لینا چاہے۔ کہ حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ نے صرف ایک (1)ہی بار سرکشی کی اور اُن کو اللہ تعالیٰ سے اُس کی سزا ملی۔ مثال کے طور پر اُن کے پاس موقعہ نہیں تھا کہ وہ نو (9) بار نافرمانی کرتے اور دسویں(10) بار اللہ تعالیٰ اُن کو سزا دیتا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو صرف ایک ہی نافرمانی پر فیصلہ کن سزا دی۔ مغرب میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والو ں کا خیال ہے، کہ اللہ تعالیٰ اُن کو سزا دے گا جب وہ بہت زیادہ گناہ کرلیں گے۔ اس کے لیے وہ یہ وجہ بیان کرتے ہیں۔ کہ اگر اُن کے گناہ دوسروں کی نسبت کم ہوئے یا پھر اُن کے زیادہ کام اچھے ہوئے تو شائد اللہ تعالیٰ اُن کی عدالت نہیں کرے گا۔

لیکن حضرت آدم ؑ اور حواؑ کے معاملے میں ہمارے لیے ایک انتباہ(خبردار کرنا) ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایک ہی گناہ کے بعض عدالت کرے گا۔ اس مثال سے سمجھیں ۔ ہم ایک مُلک کے قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا موازنہ کرتے ہیں ۔میں جس ملک میں رہتا ہوں ۔ اگر میں اس ملک کا قانون توڑوں ۔ (جس طرح اگر میں ٹیکس کی ادائیگی میں دھوکہ دوں ) تو پھر قانون کے پاس یہ کافی وجہ ہوگی کہ وہ میری عدالت کریں ۔ میں یہ دراخواست نہں کرسکتا کہ میں نے صرف ایک قانون کو توڑا ہے اور میں نے قتل، ڈکیتی یا اغوا کے قوانین کو نہیں توڑا ۔ میرے لیے ایک ہی قانون توڑنا کافی ہے کہ میں اپنے ملک کی عدالت کا سامنا کرو۔ یہ ہی حال اللہ تعالیٰ کی عدالت کا ہے۔

                                حضرت آدمؑ اور حواؑ کی نافرمانی میں ہمارے لیے ایک نشانی ہے۔ اور اِس کے اگلے اقدامات میں انہوں نے شرمندگی کا تجربہ کیا اور اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے اُنہوں نے زیتون کے پتوں سے اپنے آپ کو چھپایا۔ اس طرح جب میں کوئی نافرمانی کا کام کرتا ہوں تو میں شرمندگی محسوس کرتا ہوں اور اس کو دوسرں سے چھپانے کی کوشش کرتا ہوں۔ حضرت آدم ؑ اور احو ؑ نے بھی کوشش کی لیکن اُن کی کوشش بےکار گئی۔ اللہ تعالیٰ اُن کی ناکامی کو دیکھا سکتا تھا اور اس کے بعد اُن دونوں نے کیا کام کیا اورکیا بولے۔ آئیں دیکھیں!

(اللہ تعالیٰ کی عدالت اور رحمت)

اگر ہم غور سے مطالعہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا ہے تو ہم کو تین چیزیں ملتی ہیں۔

  1.                  اللہ تعالیٰ نے اُن کو فانی بنایا۔ اب وہ مر جائیں گے
  2. اللہ تعالیٰ نے اُن کو جنت کے باغ سے نکال دیا۔ اب اُن کو زمین پر ایک بہت مشکل جگہ پر رہنا پڑے گا
  3.             اللہ تعالیٰ نے اُن کو چمڑے کے کپڑے فراہم کیے

ان تین عوامل کے بارے میں کیا بات اہم ہے۔ یہ تمام تر چیزیں ہمارے لیے ہیں ۔ یہاں تک کہ آج بھی ہم اِن چیزوں سےمتاثر ہو رہے ہیں ۔ ہر کوئی مرتا ہے، کوئی بھی ابھی تک جنت کے باغ میں واپس نہیں گیا ،یہاں تک  کہ کوئی نبی بھی نہیں گیا۔ سب ابھی بھی کپڑے پہنتے ہیں ۔ درحقیقت تینوں باتیں سب کے لے عام ہیں ۔ ہم نے تقریباً اس حقیقت کو بھولا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نےحضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کے ساتھ کیا کیا اور یہ کہ آج بھی ہم کئی ہزاروں سال سے اس کو محسوس کر سکتے ہیں۔ اسی طرح سے اُس دِن جو ہوا اُس کے نتائج سے ہم آج بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

                            ایک اور بات یہاں پر قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لباس رحمت تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی عدالت کی لیکن اُن پر اپنی رحمت بھی نازل کی۔ اللہ تعالیٰ کو ضرورت نہیں تھی کہ اُن کو یہ چیزیں دیں ۔ یہ کپڑے اُن کو  راستباز کردار کی وجہ سے نہیں ملے  تھے۔ بلکہ اُنہوں نے یہ کپڑے نافرمانی کرنے کی وجہ سے حاصل کیے تھے۔( در حقیقت اُن کا راستبازی کا معیار قرآن شریف اور تورات شریف کے مطابق نہیں تھا)

 یہ راستبازی کا معیارحضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کو اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے مل سکتا تھا ۔ نہ تواُ سکے وہ مستحق تھے اور نہ ہی اُسکے لائق تھے۔ لیکن کسی نے اُن کی قمیت کو ادا کیا تھا۔ یہاں تک کسی کی موت ہوئی تھی ۔ لیکن اب کسی جانور نے ( شاید وہ بھیڑ ، بکری یا کسی بھی صورت میں وہ جانور جس کی کھال موزوں تھی کہ اُس کا لباس بنایا جائے) ا پنی زندگی کی قمیت ادا کی۔ ایک جانور مر گیا تاکہ حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کر سکیں ۔ قرآن شریف ہمیں اس کے بارے میں مزید بتاتا ہے کہ کپڑے بھی اُن کی شرمندگی کو ڈھانپ نہ سکے۔ لیکن حقیقت میں اُن کو راستبازی کے کپڑوں کی ضرورت تھی۔ یہ لباس رستبازی کی نشانی تھی یہ ہمارے لیے بھی نشانی ہے۔ اس آیت سے جو مشاہدہ میں نے کیا ہے اُسکو میں نے لکھ دیا ہے۔

سورہ الاعراف26:7

Comments

Popular posts from this blog

ایک چور اور بادشاہ کی بیٹی پارٹ2

جس دن بیٹی پیدا ہوتی ہے نا🌸

ﻣﺠﻬﮯ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻬﺎ