سائنسدانوں کی جدید ترین تحقیق کے
سائنسدانوں کی جدید ترین تحقیق کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ڈائنو سارز کو”آگ پروف“بننے کی صلاحیت سے مالا مال کیا ہوا تھا۔
dinosaur
آپ نے ڈائنو سار کا نام تو سن رکھا ہو گا،ویسے بھی جب کبھی دنیا کے قوی ہیکل جانور کا ذکر ہوتاہے تو ڈائنو سارز کے سوا کوئی اور نام ہمارے ذہن میں آتا ہی نہیں ۔جانوروں کی یہ نسل لاکھوں سال پہلے ناپید ہو گئی تھی ۔
ایک رائے کے مطابق خوراک کی کمی ان کی نسلوں کے خاتمے کا سبب بنی ۔بھوک کے مارے ڈائنو سارز آہستہ آہستہ موت کے منہ میں چلے گئے ۔دوسری رائے کے مطاق دنیا پر آسمانی حملے میں یہ قوی ہیکل جانور بے موت مارے گئے ۔یعنی آسمان سے شہاب ثاقب ،دمدار ستاروں یا ٹوٹے تاروں کی بارش میں یہ قوی ہیکل جانور بھی زمین میں دفن ہو گئے ۔
آئیے اس آرٹیکل میں آپکو ڈائنو سار کے بارے میں حال ہی میں سامنے آنے والی چند خوبیوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو ہم نے پہلے کبھی سنی تھیں نہ ہی اندازہ لگایا تھا۔
سائنسدانوں کی جدید ترین تحقیق کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ڈائنو سارز کو”آگ پروف“بننے کی صلاحیت سے مالا مال کیا ہوا تھا۔
زمین گرم ہونے کی صورت میں وہ خود کو اس درجہ حرارت کے مطابق ایڈ جسٹ کر لیا کرتے تھے۔ان میں ایسی اقسام موجود تھیں جنہیں تپتی زمین پر چلنے میں درد محسوس ہوتا نہ وہ آگ سے بچنے کی کوشش کرتے ۔ڈائنو سارز اس دور میں بھی یہاں زندہ رہے جسے ”آتش فشانی کا دور“کہا جاتاہے ،بے تحاشالاوا پھوٹنے کی وجہ سے ماہرین ارضیات اس دور کو (Volcansim Darakensberg) بھی کہتے ہیں۔
ماہرین نے اس بارے میں تحقیق کو جنوبی افریقہ کی اہم ترین تحقیقات میں شامل کیا ہے ،جس سے سوچ کے نئے دروازے کھلے۔کیپ ٹاؤن یونیورسٹی میں جیالوجی کے پروفیسر ایمسی بورڈی کی یہ تحقیق کئی جریدوں میں شائع ہوئی ہے ۔جریدے ”انورس“ میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق”ڈائنوسارز نے وقت کے ساتھ ساتھ کچھ صلاحیتیں حاصل کرلی تھیں جیسا کہ آگ پر چلنا یا زہریلے نباتات کے درمیان رہنا۔
جنوبی افریقہ کے علاقے کا روبیسن میں ڈائنو سارز کے قدموں کے آتش فشاں پہاڑوں کے راستوں کے بیچوں بیچ درجنوں نشانات ملے ہیں ۔سائنس میگزین کے مطابق”یہ بات حال ہی میں ہمارے علم میں آئی ہے کہ یہ قوی ہیکل جانور طبیعتاً بھی اور جسمانی طور پر بھی کئی ایسی خوبیوں کے مالک تھے جن کا پہلے ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔
جیسا کہ انہیں حرارت اور ابلتی ہوئی زمینیں پسند تھیں ،زہریلے پو
See translation

Comments
Post a Comment