ہاۓ یہ دکھ
بچہ پیدا ہونے کے پانچ سال بعد ایک دِن اچانک ماں کو احساس ہوا کہ، "یہ بچہ ہمارا نہیں لگتا، کیوں نہ اِسکا DNA ٹیسٹ کروایا جائے"
شام کو اُسکا شوہر تھکا ہارا ڈیوٹی سے گھر واپس آیا تو اُس نے اپنے خدشے کا اظہار اُس سے بھی کیا کہ، "دیکھو! اِس بچے کی عادتیں بہت عجیب ہیں، اِسکا دیکھنا
چلنا، کھانا، پینا اور سونا وغیرہ ہم سے بہت مختلف ہے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہمارا بچہ ہے، چلو اِسکا DNA ٹیسٹ کرواتے ہیں۔۔۔!"
شوہر: "بیگم! تمہیں یہ بات آج اچانک 5 سال بعد کیوں یاد آ گئی؟ یہ تو تم مجھ سے 5 سال پہلے بھی پوچھ سکتی تھی۔۔۔!!"
بیگم (حیران ہوتے ہوئے): "کیا مطلب تم کہنا
کیا چاہتے ہو؟"
شوہر: "بیگم! یاد کرو ہسپتال کی وہ پہلی رات جب ہمارا بچہ پیدا ہوا تھا اور کچھ ہی دیر بعد اُس نے پیمپر خراب کردیا تھا، تو تم ہی نے مجھے کہا تھا
"اے جی سنیے! پلیز بے بی کو چینج تو کر دیں" تب میں نے بڑی حیرانگی سے تمہاری طرف دیکھا تھا تو تم نے ہی کہا تھا، "ہمارے
پیار کی خاطر اب جبکہ میں ہل جُل بھی نہیں سکتی تو کیا آپ یہ چھوٹا سا کام بھی نہیں کر سکتے۔۔۔؟
"تو تب میں اپنے بچے کو اُٹھا کر دوسرے وارڈ میں گیا،
وہاں اپنےگندےبچےکو "چینج" کر کے دوسرے صاف بچے کو اُٹھا کر تمہارے ساتھ لا کر سُلا دیا تھا۔۔۔!
Comments
Post a Comment