ایک چوہا بلی سے بڑا تنگ تھا
ایک چوہا بلی سے بڑا تنگ تھا
ہر وقت اسے بلی کے حملے کا خوف رہتا تھا اس نے اپنی
فریاد کسی کو سنائی اس نے چوہے کو بتایا کہ فلاں جگہ
ایک کرامت والا مرشد رہتا ہے
چوہا مرشد کے پاس پہنچا اور اسکو اپنی پریشانی سنائی
مرشد نے چوہے سے کہا بولو تم کیا بننا چاہتے ہو
چوہے کے ذہن پر کیوں کے بلی کی وحشت کا بھوت سوار تھا
اس لیے چوہے نے مرشد سے فرمائش کی کہ مجھے بلی بنا دیا جائے
مرشد نے اپنی کرامت والی لاٹھی چوہے کے پیٹ پر مار دی
جس سے چوہا بلی میں تبدیل ہو گیا ۔
اب چوہا بلا خوف زندگی گزارنے لگا ۔
تھوڑا عرصہ گزرا تھا کہ اسے احساس ہونے لگا کہ بلی بن جانا کافی نہیں ہے کیونکہ اسے اب کتا تنگ کرنے لگا تھا
چوہا ایک مرتبہ پھر مرشد کی خدمت میں حاضر ہوا اور
عرض کی کہ اسکی نسل بلی سے تبدیل کرکے کتا بنایا جائے پھر مرشد نے کرامت والی لاٹھی اسکے پیٹ پر پڑی جس سے بلی کتے میں تبدیل ہو گئی
کچھ عرصہ گزرا تھا کہ اس نے دیکھا کہ کتے کی اہمیت شیر کے آگے کچھ نہیں ۔
اسے حرص ہونے لگا اور وہ ایک مرتبہ پھر مرشد کی خدمت میں پہنچا اور نے مرشد سے فرمائش کر ڈالی کہ اسے کتے سے تبدیل کر کے
شیر بنا دیا جائے مرشد نے یہ فرمائش بھی پوری کر دی
اسے کتے سے تبدیل کر کے شیر بنا دیا
یہ فرمائش بھی پوری کر دی گئی ۔
اب کتا شیر بن گیا تھا
شیر بننے کے بعد اس کے تیور مکمل طور پر بدل گے تھے ۔
وہ دیگر جانوروں پر بلاوجہ رعب جھاڑنے لگا تھا
ایک دن اس کے ذہن میں خیال آیا کہ میں تو طاقتور ہوں
لیکن مجھ سے زیادہ طاقتور تو مرشد ہے جس نے مجھے چوہے سے بلی اور پھر بلی سے کتا پھر کتے سے شیر بنایا تو کیوں نا میں سب سے طاقتور یعنی مرشد ہی بن جاؤں ۔
اس خیال کو حقیقت میں بدلنے کے لئے اس نے سب سے پہلے مرشد پر حملہ کرنے کا پلان بنایا اور پھر اس پلان پر عمل کرنے کیلئے مرشد کے پاس پہنچا اور مرشد پر حملہ کر دیا
لیکن مرشد تو مرشد ھوتا ھے
اس نے کرامت والی لاٹھی سے وار کر کے اس کو چوہا بنا دیا
سب کچھ کھونے کے بعد چوہے نے اپنی حرکت پر پشیماں
ہو کر کہا۔۔
میں مذاکرات کے لیے تیار ہوں بیٹھ کر بات کرتے ہیں
Comments
Post a Comment