پوچھا مرشد سائیں کوئی دردِ دل کی دوا

 پوچھا مرشد سائیں کوئی دردِ دل کی دوا عرض کریں فرمایا کسی کے انتظار کے کاسے میں وصال ڈال دو وسیلہ بن جاؤ سکون مل جائے گا خیر ميں نکل پڑا اور لاہور داتا حضور رحمتہ الله عليہ کی نگری میں پہنچ گیا ابھی دروازے پر ہی تھا کے ایک پرنم دل سوز ہکلاتی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی

جتھے مدنی دا ڈیرہ اے نی جندڑیے چل چلیے
ایتھے کوئی نہ تیرا اے نی جندڑیے چل چلیے
مُڑ کر دیکھا تو ایک ساٹھ پینسٹھ سالہ مائی کشکول لیے بیٹھی تھی میں بھی وہی پنچوں کے بل اُس کے پاس غیر محسوس طریقے سے بیٹھ گیا پوچھا مائی کیا چاہیئے؟ مائی ایک نظر میری طرف دیکھا اور بس اتنا کہا
عربی نگینے ص دی چوکھٹ
جب ارد گرد سے اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کی تو پتہ چلا کے اس کا نام مائی رسولاں ہے اور اس کے خاوند کا نام کرم دین تھا دونوں ہی سوالی تھے گھر گھر جا کر مانگتے تھے اولاد کوئی تھی نہیں تو دونوں کے دلوں میں بس ایک ہی خیال ایک ہی لگن تھی کے کسی طرح مدینہ منورہ جا سکیں کرم دین ایک ڈھولکی بجاتا اور ساتھ ساتھ پڑھتا
جاتا
جتھے مدنی دا ڈیرہ اے نی جندڑیے چل چلیے
ایتھے کوئی نہ تیرا اے نی جندڑیے چل چلیے
اور مائی رسولاں چُو کے ہکلاتی تھی اور سہی بول نہیں پاتی تھی تو وہ اپنی چادر پھیلا کر پیسے لیتی جاتی اور یوں اُن کے پاس دن کے اختتام تک کچھ رقم آ جاتی جسے آدھی سے زیادہ وہ مٹی کے گلے میں ڈال دیتے اور باقی جو کھانا پینا ہوتا لے لیتے دن گزرتے رہے قسمت کی ستم ظریفی یہ کے کرم دین جگر کی بیماری میں مبتلاء ہو گیا اور علاج کے لیے مٹی کا گلا توڑنا پڑا مٹی کا اور کام ہی کیا ہے بس ٹوٹ جانا لیکن پھر بھی کیا حاصل ہوا کے کرم دین بھی خود مٹی میں جا سویا اور مائی رسولاں وہی چادر لپیٹے داتا حضور رحمتہ الله عليہ کے در پر آ گئی اور ہکلاتے ہوئے پڑتی رہتی
جتھے مدنی دا ڈیرہ اے نی جندڑیے چل چلیے
ایتھے کوئی نہ تیرا اے نی جندڑیے چل چلیے
مگر کون تھا یہاں سننے والا مشکل سے چند سکے جمع ہوتے وہ بھی روٹی دال میں خرچ ہو جاتے خیر قصہ مختصر یہ کے کچھ دنوں میں مائی رسولاں کا پاسپورٹ تیار کروایا اور ہم روانہ ہو گے شہرِ محبوب صلى الله عليہ وآلہ واصحابہ وسلم کی جانب ابھی وہاں مدینہ منورہ درِ نبى محبوب صلى الله عليہ وآلہ واصحابہ وسلم تک پہنچے ہی تھے کے مائی رسولاں اونچا اونچا رونے لگی اور ساتھ ہی پڑھتی جاتی
میرے واقف خیالاں دا میرا محرم حالاں دا
جتھے مدنی دا ڈیرہ اے نی جندڑیے چل چلیے
مگر حیران کُن طور پر اُس دن اُس کی زبان میں کوئی ہکلاہٹ نہیں تھی اور چاروں جانب ایک بے نام خاموشی تھی یاد آیا مُرشد نے ایک دفعہ واقعہ سنایا تھا کے سرکارِ كل محمد مصطفى صلى الله عليہ وآلہ واصحابہ وسلم ایک دن مسجد نبوى صلى الله عليہ وآلہ واصحابہ وسلم میں تشریف فرما تھے کے ایک دیوانی عورت باہر آ کر کھڑی ہو گئی گرمی اپنے عروج پر تھی اور وہ تھی کے بولے جا رہی تھی اور حضور نبى كريم صلى الله عليہ وآلہ واصحابہ وسلم تھے کہ اس كو سُنتے ہی جا رہے تھے حضرت فارقِ اعظم رضى الله تعالى عنہ تشریف لائے عرض كيا جانِ عالم میرے آقا و مولا صلى الله عليہ وآلہ واصحابہ وسلم یہ عورت دیوانی ہے اور آپ صلى الله عليہ وآلہ واصحابہ وسلم کا وقت بہت قیمتی ہے دھوپ بہت ہے چہرہ مبارک بھی لال ہو گیا ہے اندر آ جائیے حضور نبى كريم صلى الله عليہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا عمر فاروق رضى الله تعالى عنہ پوری دنیا میں کوئی نہیں اسے سُننے والا کیا ہم بھی اس کی نہ سُنے ؟ آج بھی ایسا ہی لگا کے جیسے حضور نبى كريم صلى الله عليہ وآلہ واصحابہ وسلم پہلو میں بیٹھے جنابِ عمر فاروق رضى الله تعالى عنہ سے فرما رہے ہوں عمر فاروق رضى الله تعالى عنہ پوری دنیا میں مائی رسولاں کو سُننے والا کوئی نہیں کیا ہم بھی اس کی نہ سُنے؟ اور وہاں مائی رسولاں تھی قدمِ محبوب صلى الله عليہ وآلہ واصحابہ وسلم میں ایسی گری کے پھر اُٹھ ہی نہ پائی جیسے کہہ رہی ہو
ڈر دی ماری اَکھ نہ کھولا کدے فیر وچھڑ نہ جاواں
اور وہیں محبوب حضور نبى كريم صلى الله عليہ وآلہ واصحابہ وسلم کے شہر مدینہ منورہ میں دفن ہو گئی منظور ہو گئی عشق عاشق کرتا ہے اور عشق کو قائم محبوب کرتا ہے عشق کرنا اور عشق کو قائم کرنا دو الگ صورتیں ہیں محبوب کی رضا نہ ہو تو عشق قائم نہیں ہوتا قضا ہو جاتا ہے عشق نہ مانگو رضا مانگو
سلامت رہو گ

Comments

Popular posts from this blog

ایک چور اور بادشاہ کی بیٹی پارٹ2

جس دن بیٹی پیدا ہوتی ہے نا🌸

ﻣﺠﻬﮯ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻬﺎ