اس نے پوچھا کہ کیا پیغام ہے؟وزیر نے بتایا کہ بادشاہ نے کئی سال پہلے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح ایک ایسے شخص سے کریں گے جو بڑا متقی و پرہیز گار ہو، اللہ والا ہو اور وہ اس کی تلاش میں تھے، ان جو نظر گئی تو نظر انتخاب آپ پر آکر رک گئی ہے، لہذا بادشاہ نے مجھے بھیجا ہے کہ اس سلسلے میں آپ سے گفتگو کروں۔ یہ شخص جو در اصل اسی تمنا و آرزو میں یہاں آکر بیٹھا تھا بہت دیر تک وزیر کی گفتگو سنتا رہا، اس کے بعد اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، وزیر نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو کہنے لگا کہ آج جو پیغام لے کر آپ آئے ہیں یہ پیغام مجھے منظور نہیں ہے،وزیر نے کہا کہ کیوں منظور نہیں؟اس شخص نے کہا کہ دیکھئے میں صاف صاف بات آپ کو بتاتا ہوں کہ میں اصل میں ایک چور تھا اور ایک مرتبہ بادشاہ کے محل میں چوری کے ارادے سے گیا تھا، پھر جو کچھ بھی ہوا اس کو سنایا اور اس کے بعد اس چور نے کہا کہ میں نے تو یہ وضع قطع اسی حرص کی وجہ سے اختیار کی تھی لیکن میں یہاں آکر بیٹھا تو میرے خدا نے مجھے اپنا بنا لیا، اب بس اس کے بعد مجھے اور کسی کی ضرورت نہیں میرے لئے میرا خدا کافی ہے۔بے شک! جب عبادت عبادت ہوجائے،...
Comments
Post a Comment