Posts

Showing posts from September, 2023

طارق بن زیاد (انتقال 720ء)

Image
  طارق بن زیاد (انتقال 720ء) بربر نسل سے تعلق رکھنے والے  بنو امیہ کے جرنیل تھے۔بنو امیہ نے اسلامی سلطنت کو شاندار توسیع دی تھی بنوامیہ کے خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور حکومت میں جہاں اسلامی لشکر سندھ اور ترکستان کو فتح کررہا تھا وہیں طارق بن زیاد افریقہ سے یورپ میں کمند ڈال چکا تھا انہوں نے 711ء میں ہسپانیہ (اسپین) کی حکومت پر قبضہ کرکے یورپ میں مسلم اقتدار کا آغاز کیا۔ اور 711-718 عیسوی میں ویسیگوتھک ہسپانیہ (موجودہ اسپین اور پرتگال) پر بنوامیہ کی مسلم فتح کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنی فوج کے ہمراہ شمالی افریقہ کے ساحل سے آبنائے جبرالٹر کو عبور کیا اور یہ بات مشہور ہیکہ انھوں یہاں اپنی کشتیوں کو جلادیا تھا تاکہ سپاہیوں کے دل میں واپسی کا خیال نہ آۓ انہوں نے اپنی فوجوں کو اس مقام پر مستحکم کیا جسے آج جبرالٹر کی چٹان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ "جبرالٹر" عربی نام جبل الطارق کا ہسپانوی ماخذ ہے، جس کا مطلب ہے "حریک کا پہاڑ"، جو طارق بن زیاد کے نام سے موسوم ہے۔وہ ہسپانوی تاریخ میں Taric el Tuerto کے نام سے ...

ایک چوہا بلی سے بڑا تنگ تھا

  ایک چوہا بلی سے بڑا تنگ تھا ہر وقت اسے بلی کے حملے کا خوف رہتا تھا اس نے اپنی فریاد کسی کو سنائی اس نے چوہے کو بتایا کہ فلاں جگہ ایک کرامت والا مرشد رہتا ہے تم اسکے پاس جاکر اپنی فریاد سنا دو۔ چوہا مرشد کے پاس پہنچا اور اسکو اپنی پریشانی سنائی مرشد نے چوہے سے کہا بولو تم کیا بننا چاہتے ہو چوہے کے ذہن پر کیوں کے بلی کی وحشت کا بھوت سوار تھا اس لیے چوہے نے مرشد سے فرمائش کی کہ مجھے بلی بنا دیا جائے مرشد نے اپنی کرامت والی لاٹھی چوہے کے پیٹ پر مار دی جس سے چوہا بلی میں تبدیل ہو گیا ۔ اب چوہا بلا خوف زندگی گزارنے لگا ۔ تھوڑا عرصہ گزرا تھا کہ اسے احساس ہونے لگا کہ بلی بن جانا کافی نہیں ہے کیونکہ اسے اب کتا تنگ کرنے لگا تھا چوہا ایک مرتبہ پھر مرشد کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اسکی نسل بلی سے تبدیل کرکے کتا بنایا جائے پھر مرشد نے کرامت والی لاٹھی اسکے پیٹ پر پڑی جس سے بلی کتے میں تبدیل ہو گئی کچھ عرصہ گزرا تھا کہ اس نے دیکھا کہ کتے کی اہمیت شیر کے آگے کچھ نہیں ۔ اسے حرص ہونے لگا اور وہ ایک مرتبہ پھر مرشد کی خدمت میں پہنچا اور نے مرشد سے فرمائش کر ڈالی کہ اسے کتے سے تبدیل کر کے ش...

غازی علم دین ؛

Image
  یہ تھا لاہور کا رہائشی 19سالہ غازی علم دین پیشے کے لحاظ سے ایک بڑھئی تھا۔ تقسیم ہند سے پہلے انڈیا میں ہونے والے ایک واقعہ نے علم دین کی زندگی میں ہلچل برپا کردی۔ 1923 میں ایک انتہا پسند ہند و نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک نہایت گستاخانہ کتاب کے نام سے تحریر کی۔ یہ کتاب ایک فرضی نام سے لکھی گئی جسے لاہور کے ایک ہندو پبلشر راجپال نے شائع کیا۔ کتاب میں انتہائی نازیبا باتیں درج تھیں جنہیں کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ کتاب کی اشاعت سے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں نے اس کتاب پر پابندی کا مطالبہ کیا اور اس کے پبلشر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔ سیشن کورٹ نے راجپال کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنادی جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے اس سزا کے خلاف اپیل کی۔ سماعت میں مجرم راجپال کو اس وجہ سے رہا کردیا کہ اس وقت مذہب کے خلاف گستاخی کا کوئی قانون موجود نہ تھا۔ مسلمانوں نے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں تحریک شروع کردی۔ نوجوان علم دین اپنے دوست رشید کے ساتھ لاہور کی تاریخی وزیر خان مسجد کے سامنے اس ہجوم میں موجود تھا...

ایک فرشتہ انسان کی روپ میں 😘💝

Image
  گجرات کے گاؤں بانٹوا کا نوجوان عبدالستار گھریلو حالات خراب ہونے پر کراچی جا کر کپڑے کا کاروبار شروع کرتا ہے کپڑا خریدنے مارکیٹ گیا وہاں کس نے کسی شخص کو چاقو مار دیا زخمی زمین پر گر کر تڑپنے لگا لوگ زخمی کے گرد گھیرا ڈال کر تماشہ دیکھتے رہے وہ شخص تڑپ تڑپ کر مر گیا.. نوجوان عبدالستار کے دل پر داغ پڑ گیا , سوچا معاشرے میں تین قسم کے لوگ ہیں دوسروں کو مارنے والے مرنے والوں کا تماشہ دیکھنے والے اور زخمیوں کی مدد کرنے والے .. نوجوان عبدالستار نے فیصلہ کیا وہ مدد کرنے والوں میں شامل ہو گا اور پھر کپڑے کا کاروبار چهوڑا ایک ایمبولینس خریدی اس پر اپنا نام لکها نیچے ٹیلی فون نمبر لکھا اور کراچی شہر میں زخمیوں اور بیماروں کی مدد شروع کر دی. وہ اپنے ادارے کے ڈرائیور بهی تهے آفس بوائے بهی ٹیلی فون آپریٹر بهی سویپر بهی اور مالک بهی وہ ٹیلی فون سرہانے رکھ کر سوتے فون کی گھنٹی بجتی یہ ایڈریس لکهتے اور ایمبولینس لے کر چل پڑتے زخمیوں اور مریضوں کو ہسپتال پہنچاتے سلام کرتے اور واپس آ جاتے .. عبدالستار نے سینٹر کے سامنے لوہے کا غلہ رکھ دیا لوگ گزرتے وقت اپنی فالتو ریزگاری اس میں ڈال دیتے تھے یہ س...

جس دن بیٹی پیدا ہوتی ہے نا🌸

Image
  اس دن ماں اپنی کان کی بالیاں اتار کر صندوق میں رکھ دیتی ہے اور کہتی ہے یہ میں اپنی بیٹی کو دوں گی گھر میں سب سے اچھے والی رضائی اس دن سے سنبھالنا شروع کر لیتی ہے کہ یہ میں اپنی بیٹی کو دوں گی اس طرح کئی چیزیں رکھ رکھ کر جہیز کا صندوق بھرا پڑا ہوتا ہے مگر ماں ہوتی ہے کہ پھر بھی روز بیٹی کے ابا سے لڑائی کرتی ہے کچھ پیسے الگ سے دیا کرو بیٹی کی شادی بھی تو کرنی ہے جبکہ پہلے سے ہی اس بیٹی کے نام کی دو کمیٹی ڈالی ہوتی ہے اور وہ مزدوری کرنے والا باپ بھی کہتا ہے میں اپنی بیٹی کی شادی ایسے کرو گا دنیا دیکھے گی سب کچھ خرید کر لاؤں گا ایسے لگتا ہے جیسے اپنی بیٹی کے لیے خود کو بیچ دیں گے اس ہی لڑکی کے پلڑے میں اگر نصیب كم پڑ جائے تو کیا وہ بھی ماں باپ اس کی جھولی میں لا سکتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر بیٹی کے نصیب کو اچھا کرے آمین All reactions: 48 48

*بیوی تو بیوی ہوتی ہے..!*

Image
  ‏جج: تمہیں طلاق کیوں چاہئے؟ ‏آدمی: جج صاحب! میری بیوی مجھ سے لہسن چھلواتی ہے، پیاز كٹواتی ہے، برتن دھلواتی ہے۔ ‏جج: تو اس میں کیا مشکل ہے؟ لہسن چھیلنے سے پہلے تھوڑا سا گرم کر لیا کرو آسانی سے نکل جائے گا، پیاز کاٹنے سے پہلے تھوڑی دیر انہیں ٹھنڈے پانی میں رکھ دیا کرو اس سے کاٹتے وقت ‏آنکھوں میں جلن نہیں ہوگی، برتن دھونے سے پہلے انہیں پانی سے بھرے ٹب میں دس منٹ بھیگو دیا کرو آسانی سے صاف ہو جائیں گے اور کپڑے سرف میں بھگونے سے پہلے سادہ پانی میں بھگو لیا کرو داغ آسانی سے نکل جائیں گے اور ہاتھوں کو بھی تکلیف نہیں ہوگی۔ ‏آدمی:سمجھ گیا جناب! ‏جج:کیا سمجھ گئے؟ ‏آدمی: یہی کہ آپ کی حالت مجھ سے بھی بری ہےاور جج صاحب آپ ان تجربات سے مستفید ھوئے ھوئے ھیں ، آپ کی بیوی لہسن، پیاز اور برتنوں کے علاوہ آپ سے کپڑے بھی دھلواتی ہے

ﻣﺠﻬﮯ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻬﺎ

Image
  ﻣﺠﻬﮯ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻬﺎ ،ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﯽ ﺑﺮﺗﻬ ﮈے ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺗﻬﯽ اور ﻣﺠﻬﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﺎ ﮔﻔﭧ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﺗﻬﺎ. میں ﮔﺎﮌﯼ ﻧﮑﺎﻝ ﻫﯽ ﺭﻫﯽ ﺗﻬﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﮐﺮ ﮐﻬﮍﯼ ﻫﻮﮔﺌﯽ، ﺑﻮﻟﯽ۔ "ﺑﯽﺑﯽ ﺟﯽ! ﺑﮩﺖ ﻏﺮﯾﺐ ﻫﻮﮞ کچھ ﻣﺪﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔" ﻣﺠﻬﮯ ﻏﺼﮧ ﺁﮔﯿﺎ۔"ﺑﺲ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺟﮩﺎﮞ ﮔﺎﮌﯼ ﺩﯾﮑﻬﺘﮯ ﻫﻮ ﻓﻮﺭﺍ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﮯ ﻫﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﯿﮟ ﺑﺘﺎﻧﮯ۔" ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ۔ "ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯽﺑﯽ ﺟﯽ! ﺟﻬﻮﭦ ﻧﮩﯿﮟ کہہ ﺭﻫﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻌﯽﺿﺮﻭﺭﺗﻤﻨﺪ ﻫﻮﮞ ،ﺳﺮﺩﯼ ﺑﮩﺖ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺮﻡ ﮐﭙﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﻬﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺮﻡ ﮐﭙﮍﺍ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﻬﻼ ﻫﻮﮔﺎ۔ "ﻫﻮگئیں ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻓﺮﻣﺎﺋﺸﯿﮟ ﺷﺮﻭﻉ، ﺍﮔﻠﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﻬﯽ ﺳﺎﺗﻬ ﻫﯽ ﺑﺘﺎﺩﻭ۔" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻃﻨﺰ ﮐﯿﺎ، ﻭﮦ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﻬ ﺳﺎﺗﻬ ہی ﭼﻠﻨﮯﻟﮕﯽ۔ "ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯽﺑﯽ ﺟﯽ! ﺍﻭﺭ ﮐﭽﻬ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﺑﺲ ﮔﺮﻡ ﮐﭙﮍﺍ ﺩﮮ ﺩﻭ ،ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺗﺮﻥ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺗﺮﻥ ہی ﺩﮮ ﺩﻭ ﺑﯽﺑﯽ ﺟﯽ۔" ﻣﯿﺮﺍ ﻏﺼﮧ مزید ﺑﮍﻫ ﮔﯿﺎ .ﻫﭩﻮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﻬﮯ ﺩﯾﺮ ﻫﻮﺭﻫﯽ ﻫﮯ۔" ﻭﮦ ﺳﮩﻢ ﮐﺮ ﭘﯿﭽﻬﮯ ﻫﭧ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺗﯿﺰ ﮐﺮ ﺩﯼﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﺍﺑﻬﯽ ﺩﻭﺭ ﺗﻬﯽ ﮐﮧ ﮔﺎﮌﯼ ﭨﺮﯾﻔﮏ ﺟﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﭘﻬﻨﺲ ﮔﺌﯽ۔ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﻣﺮﻣﺖ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﻫﻮ ﺭﻫﺎ ﻫﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ وقت ﻟﮕﮯ ﮔﺎ۔ ﺳﺨﺖ ﮐﻮﻓﺖ ﻫﻮﺋﯽ ﻣﮕﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺗﻬﯽ، ﺭﮐﻨﺎ ﭘﮍﺍ۔ ﻭﻗﺖ ...

(کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں)

Image
  (کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں) آپ نے یہ منقولہ تو بچپن سے سنا ہوگا مگر اس کے پیچھے کی داستان کا نہیں پتا ہوگا ۔ کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے، پٹیالہ کے سب سے بااثر بڑے جاگیردار اور گاؤں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے، ایک دن معملات سے تنگ آکر بھانجے کے پاس پہنچے اور کہا کہ شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے مجھے جج لگوا دے، (ان دنوں کسی بھی سیشن جج کے آڈر انگریز وائسراۓ کرتے تھے) بھانجے سے چھٹی لکھوا کر کھڑک سنگھ وائسرائے کے پاس جاپہنچے، وائسرائے نے خط پڑھا وائسرائے۔ نام؟ کھڑک سنگھ' وائسرائے۔ تعلیم؟ کھڑک سنگھ۔ "تسی مینو جج لانا ہے یا سکول ماسٹر؟" وائسرائے ہنستے ہوئے 'سردار جی میرا مطلب قانون کی کوئی تعلیم بھی حاصل کی ہے یا نہیں اچھے برے کی پہچان کیسے کرو گے'؟ کھڑک سنگھ نے موچھوں کو تاؤ دیا اور بولے " بس اتنی سی بات بھلا اتنے سے کام کے لیے گدھوں کی طرح کتابوں کا بوجھ کیوں اٹھاؤ میں سالوں سے پنچائت کے فیصلے کرتا آرہا ہوں ایک نظر میں بھلے چنگے کی تمیز کرلیتا ہوں" وائسرائے نے سوچا کہ بھلا کون مہاراجہ سے الجھے جن نے سفارش کی ہے وہ جانے اور اس...

پوچھا مرشد سائیں کوئی دردِ دل کی دوا

  پوچھا مرشد سائیں کوئی دردِ دل کی دوا عرض کریں فرمایا کسی کے انتظار کے کاسے میں وصال ڈال دو وسیلہ بن جاؤ سکون مل جائے گا خیر ميں نکل پڑا اور لاہور داتا حضور رحمتہ الله عليہ کی نگری میں پہنچ گیا ابھی دروازے پر ہی تھا کے ایک پرنم دل سوز ہکلاتی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی جتھے مدنی دا ڈیرہ اے نی جندڑیے چل چلیے ایتھے کوئی نہ تیرا اے نی جندڑیے چل چلیے مُڑ کر دیکھا تو ایک ساٹھ پینسٹھ سالہ مائی کشکول لیے بیٹھی تھی میں بھی وہی پنچوں کے بل اُس کے پاس غیر محسوس طریقے سے بیٹھ گیا پوچھا مائی کیا چاہیئے؟ مائی ایک نظر میری طرف دیکھا اور بس اتنا کہا عربی نگینے ص دی چوکھٹ جب ارد گرد سے اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کی تو پتہ چلا کے اس کا نام مائی رسولاں ہے اور اس کے خاوند کا نام کرم دین تھا دونوں ہی سوالی تھے گھر گھر جا کر مانگتے تھے اولاد کوئی تھی نہیں تو دونوں کے دلوں میں بس ایک ہی خیال ایک ہی لگن تھی کے کسی طرح مدینہ منورہ جا سکیں کرم دین ایک ڈھولکی بجاتا اور ساتھ ساتھ پڑھتا جاتا جتھے مدنی دا ڈیرہ اے نی جندڑیے چل چلیے ایتھے کوئی نہ تیرا اے نی جندڑیے چل چلیے اور مائی رسولاں چُو کے ہکلاتی تھی او...

کیا عجیب واقعہ ہے۔

Image
  خدا کے دوست عمررسیدہ شخص راستے میں ایک بچے کو اکثر ننگے پیر فٹ بال کھیلتے دیکھا کرتا تھا۔ ایک دن اندازے سے بوٹ خرید کر بچے کے پاس آکر کہا کہ بیٹا یہ پہن کر فٹ بال کھیلو۔ بچہ بوٹ پہن کر خوش ہوا اور ہوچھا کہ کیا تم خدا ہو؟ شخص نے کہا کہ نہیں بیٹے انسان خدا نہیں ہوسکتا۔ بچے نے پھر معصومانہ انداز میں کہا کہ پھر یقیناً خدا کے دوست ہو اس لیے کہ کل میں نے خدا سے کہا تھا کہ مجھے جوتے دیدو۔ پس کبھی اسطرح انسان کو خدا کا دوست بننا چاہیے

‏*ببر شیر کـو قـتل کرنے والےصحـابـیؓ*

Image
  مسلمان فوج اور ایران کی فوج جنگ کے میدان میں جب آمنے سامنے آئے تو مسلمان حیران ہوگئے کہ ایرانی اپنے ساتھ لڑنے کے لیئے تربیت یافتہ شیر لائے ہیں!!! ان کے اشارے کے ساتھ شیر بھاگتا ہے گرجتا ھے مسلمانوں کی فوج میں سے ایک دل والا بہادر آدمی نکلا! ‏وہ نڈر بہادر مسلمان ایک خوفناک اور ناقابل یقین اعتبار سے شیرکی طرف بھاگا اور میرا خیال ہے تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک آدمی, شکاری شیر کا شکار کرنے بھاگا ہو! دونوں فوجیں حیرت سے دیکھنے لگیں آدمی چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو شیر کا سامنا کیسے کر سکتا ہے!!! وہ بہادر,‏ہوا کی طرح شیر کی طرف اڑ کر گیا! اس بہادر کے سینے میں کامل مسلمان کا ایمان اور ہمت تھی! جو خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا بلکہ اس کا عقیدہ تھا کہ شیر ہی اس سے ڈرے گا! پھر اس نے اپنے شکار پر شیر کی طرح چھلانگ لگائی اور اس پر کئی وار کیے یہاں تک کہ اس نے اسے مار ڈالا!! ایرانیوں کے‏دلوں میں خوف طاری ہوگیا! وہ ان لوگوں سے کیسے لڑیں گے جو شیروں سے نہیں ڈرتے تھے چنانچہ مسلمانوں نے انہیں جنگ کے شروع میں ہی بھگا دیا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس نوجوان کے پاس گئے اور ان ...